Sunday, 22 February 2015

malaria is more drug resistant

ملیریا کی دوا کے خلاف مدافعت پہلے سے زیادہ



ملیریا مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں انسانی جانوں کو ملیریا سے محفوظ رکھنے والی دوائی کے خلاف مدافعت پہلے سے زیادہ دکھائی دی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں سامنے آنے کے بعد سے ملیریا سے بچاؤ کی ادویات کے خلاف مدافعت اور اسے رد کرنے کی صلاحیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔
تجربات جنہیں لینسٹ انفیکشس ڈیزیز میں شائع کیا اب ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مدافعت بھارت میں داخل ہونے کو ہے جسے ماہرین نے ’خطرناک اور تباہ کن خطرہ‘ قرار دیا ہے۔
میلیریا کے نتیجے میں ہلاکتیں 2000 کے بعد سے نصف ہو گئی ہیں اور اب اس انفیکشن نے نتیجے میں 584000 افراد سالانہ ہلاک ہوتے ہیں۔
مگر خدشہ ہے کہ ملیریا کی دوا آرٹیمیسین کی خلاف مدافعت اس ساری محنت پر پانی پھیر دے گی جسے کمبوڈیا، لاؤس، تھائی لینڈ، ویتنام اور میانمار میں دیکھی گئی ہے جہاں 940 افراد کے خون کے نمونے جنہیں 55 مختلف جگہوں سے اکٹھا کیا گیا تھا، میں ظاہر ہوا ہے کہ یہ مدافعت پورے ملک میں بڑے پیمانے پر موجود ہے۔
ایک جگہ جسے سگائنگ کہا جاتا ہے میں اس مدافعت کرنے والے طفیلیے بھارتی سرحد سے صرف 25 کلومیٹر دور ہے۔
تحقیق میں حصہ لینے والے ایک محقق پروفیسر چارلس ووڈرو جن کا تعلق تھائی لینڈ کے ایک ریسرچ یونٹ سے ہے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے دیکھا کہ آرٹیمیسین کے خلاف مدافعت واضع طور پر بھارت کی سرحد کے قریب کے علاقوں میں موجود ہے اور وہ ایک حقیقی خطرہ اور مستقبل میں اس سے قریبی علاقوں میں پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔
آرٹیمیسین دواؤں کے ایک مجموعے کے حصے کے طور پر دی جاتی ہے اور ڈاکٹر ووڈرو کا کہنا ہے کہ مجموعے میں موجود دوسری دوائیں ابتدا میں تو اس کی کمی کو پورا کرتی ہیں مگر ’ایک آنے والے‘ وقت میں یہ مکمل ناکامی کا سبب بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ بھارت میں پھیلتا ہے تو ملیریا وہاں دیہی آبادی کو نقصان پہنچاتا رہے گا مگر علاج کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ مگر مختصر مدت کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ موجود ہے اور اس کے علاج کے لیے دوائیں موجود نہیں ہیں۔‘
یہ سب پہلے ہو چکا ہے کلوروکونین جس نے کروڑوں انسانی جانیں ملیریا سے بچائیں مگر اس کے خلاف 1975 میں مدافعت سامنے آئی، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں جو پھیل کر دنیا کے مختلف علاقوں سے ہوتی 17 سال بعد افریقہ پہنچی۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آرٹیمیسین کے خلاف مدافعت افریقہ میں ابھی ہے یا نہیں مگر خدشات ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دھرانے کو ہے جس کے تباہ کُن نتائج سامنے آئیں گے۔
ڈاکٹر ووڈرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کلوروکونین کے خلاف مدافعت کے عالمی پھیلاؤ سے ہمارے پاس ثبوت ہے کہ یہ بیمار افراد کی تعداد اور ہلاکتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا پیش خیمہ ہے۔‘


خون کے سرخ خلیے میں ملیریا کا جرثومہ

جنوبی ایشیا کلوروکونین اور آرٹیمیسین کے خلاف مدافعت میں شامل رہا ہے اور اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس خطے میں افریقہ کے بعد ملیریا کے خلاف مدافعت کی قدرتی سطح بہت کم ہے اور مدافعت کی کمی کے بغیر اس علاقے میں بیمار افراد کے علاج کے لیے صرف دوا کو کام کرنا پڑتا ہے۔
تاہم افریقہ میں ملیریا کے کیس بہت زیادہ ہوتے ہیں جن میں بار بار ملیریا کے کیس بھی عام ہیں جس کی وجہ سے لوگ مدافعت پیدا کر لیتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ قدرتی نظامِ مدافعت اور دوا مل کر ملیریا کے خلاف جنگ میں ذمہ داری اٹھاتی ہیں اور اسی وہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ اس مرض کے طفیلیے کے لیے مدافعت بڑھانے کے لیے زرخیز ہے۔
ورلڈ وائڈ اینٹی ملیریل ریزسٹنس نیٹ ورک کے پروفیسر فیلیپ گیورن نے کہا کہ’یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آرٹیمشینن کے خلاف مدافعت کس قدر خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور ہمیں اس کے خلاف موثر عالمی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔‘
انفیکشن اور امیونوبائیولوجی کے سربراہ پروفیسر مائک ٹرنر نے کہا کہ ’نئی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے جس میں طفیلیے آرٹیمیسین کے خلاف مدافعت بڑھا رہے ہیں جو ملیریا کے علاج کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ اب میانمار میں بہت عام ہے۔ ہمیں اب بھارت تک اس مدافعت کے بڑھنے کے لازمی خطرے کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔‘

Thursday, 19 February 2015

مریخ کے پراسرار ’بادلوں‘ کا معمہ حل کرنے کی کوششیں Clouds on Mars

سائنسدان مریخ پر ایک دائرے میں پھیلی ہوئی گرد و غبار کے پراسرار معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین فلکیات نےگرد و غبار کو پہلی بار سال 2012 میں دیکھا تھا اور غائب ہونے سے پہلے یہ دو بار نمودار ہوئی۔
سائنسدان اس گرد کی تصاویر کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کا دائرہ ایک ہزار کلومیٹر تک تھا اور اتنے وسیع علاقے پر پھیلے گردو غبار کو پہلے نہیں دیکھاگیا۔
جریدے نیچر میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق محققین کے خیال میں یہ بادل کا بڑا ٹکڑا ہو سکتا ہے یا غیر معمولی طور پر روشن ’ارورہ‘ ہے جو سورج سے خارج کردہ ذرات اور کسی سیارے کے مقناطیسی نظام کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتا ہے۔
تاہم ابھی تک سائنسدان اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ یہ گرد کس طرح مریخ کے حصے مارٹن کی اوپری فضا میں نمودار ہوا۔
ماہر فلکیات ڈاکٹر اینٹونیو گارسیا کے مطابق اس معمے نے سائنسدانوں کے لیے مزید سوالات پیدا کیے ہیں۔
دنیا بھر میں ماہرین فلکیات نے اپنی خلائی دوربینوں کا رخ مریخ کی طرف کر رکھا ہے اور یہ منظر مارچ 2012 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا۔
ڈیمن پیچ نے اس سے پہلے مریخ کی فضا میں گرد و غبار کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔


’یہ بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ایک چمکدار گرد تھی اور یہ 10 دن تک رہی۔ ایک ماہ کے بعد یہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس وقت بھی اس کا دائرے اور ٹھہرنے کا دورانیہ پہلے جتنا ہی تھا۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سیارے کی ایک جانب سے اس کو نکلتے ہوئے دیکھا۔ شروع میں مجھے لگا کہ میری دوربین یا کیمرے میں کوئی مسئلہ ہے۔ لیکن جب میں نے دوسری تصاویر دیکھیں تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ حقیقی ہیں اور یہ باعث حیرت تھا۔‘
’یہ بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ایک چمکدار گرد تھی اور یہ 10 دن تک رہی۔ ایک ماہ کے بعد یہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس وقت بھی اس کا دائرے اور ٹھہرنے کا دورانیہ پہلے جتنا ہی تھا۔‘
سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس دریافت کی تصدیق کی ہے لیکن وہ اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی خلائی ادارے کے سائنسدان ڈاکٹر گارسیا مونوز کے مطابق’ ہم جانتے ہیں کہ مریخ پر بادل ہیں لیکن اس حصے میں بادل زیادہ سے زیادہ ایک سو کلومیٹر کی بلندی پر دیکھے گئے ہیں۔ لیکن مریخ پر نئے دریافت کو 200 سو کلومیٹر کی بلندی پر دیکھا گیا ہے اور یہ بالکل مختلف ہے کیونکہ 200 سو کلومیٹر کی بلندی پر ہم نے بادل نہیں دیکھے ہیں۔‘
حقیقت میں اسے ہم نے 20 دن تک دیکھا ہے اور یہ بالکل قابل حیرت ہے۔
ایک اور رائے کے مطابق مریخ کا علاقہ مارٹن زمین پر قطب شمالی سے مماثلت رکھتا ہے جہاں قطبی روشنی دیکھی جا سکتی ہیں۔
تاہم ڈاکٹر گاریسا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’مریخ کے اس حصے کو ہم جانتے ہیں اور ہمیں یہاں پہلے ہی ’ارورہ‘ روشنی نظر آنے کی اطلاعات مل چکی ہیں۔ لیکن جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں وہ زمین یا مریخ پر نظر آنے والی’قطبی‘ روشنیاں کی بلندی سے بہت زیادہ بلندی پر ہے۔‘
’یہ ’ارورہ‘ سے ایک ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس چیز پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ مریخ کو اس قدر طاقتور ’ارورہ‘ روشنیاں ہو سکتی ہیں۔‘
اگر ان نظریات پر یقین کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہماری مریخ کی اوپری فضا کے بارے میں معلومات غلط ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جریدے میں اس بارے میں شائع ہونے سے امید ہے کہ دیگر سائنسدان اس بارے میں کوئی کھوج لگا سکیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو سائنسدانوں کو اس گردو غبار کے دوبارہ نمودار ہونے کا انتظار کرنا ہو گا۔

Wednesday, 18 February 2015

Smart Glasses سمارٹ عینک


الیکٹرانکس کی معروف کمپنی سونی کی بنائی ہوئی ’سمارٹ عینک‘ اگلے مہینے دس ممالک میں فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کی جا رہی ہیں۔
ان ’سمارٹ‘ چشموں کی قیمت 840 ڈالر ہو گی اور یہ پہلے مرحلے میں برطانیہ اور جرمنی کے بعد جاپان اور امریکہ کی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
کالے فریم والے یہ چشمے جدید اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
گزشتہ مہینے گوگل نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ’سمارٹ عینک‘ پر نظر ثانی کے لیے مارکیٹ سے انہیں واپس منگا رہا ہے۔
سونی کے ان چشموں کا پہلا ماڈل ایک سوفٹ ویئر بنانے والی ’ِکٹ‘ کے ساتھ فروخت کیا جائے گا جس کی مدد سے صارفین اپنی ’ایپس‘ ڈیزائین کر سکیں گے۔
ان چشموں کا وزن 77 گرام ہو گا اور ان میں ’ایکسیلرومیٹر‘، ’جائروسکوپ کمپس‘، تصویر اور روشنی کے لیے سنسر، تین میگا پکسل کیمرا اور مائکروفون موجود ہوں گے۔
ان چشموں میں ایک ’کنٹرولر‘ بھی ہو گا جو صارف کے کپڑوں کے ساتھ نصب کیا جا سکتا ہے اور جس میں ایک عدد سپیکر، ’ٹچ سنسر‘ اور آلے کی بیٹری ہو گی۔
لکھائی صارف کے کپڑوں پر سامنے کی جانب نصب ایک ’مونوکروم سکرین‘ پر آویزاں ہو گی۔